بھونیشور،26فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہفتہ کو اڑیسہ اسمبلی میں وزیر اعظم کے غربت والے تبصرہ کو لے کر ہنگامہ ہوا اور اسپیکر کو پورے دن کے لئے اسمبلی کو ملتوی کرنا پڑا۔دراصل بات یہ ہے کہ جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اڑیسہ کو غریب ریاست بتایا تھا۔اتر پردیش میں ایک ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھاکہ ابھی اڑیسہ میں انتخاب ہوا، وہاں غربت اتنی ہے کہ اگر ہندوستان کے غریب ترین ضلع تلاش کرنے ہیں تو وہ اڑیسہ میں ملتے ہیں، فاقہ کشی کی بحث ہوتی ہے تو لوگ اڑیسہ کا نام لیتے ہیں،ناخواندگی، غربت، بے روزگاری پربحث ہوتی ہے تو لوگ اڑیسہ کا نام لیتے ہیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو پرچم لہرانے کے لئے جگہ نہیں ملتی تھی لیکن ابھی یہاں انتخاب ہوا اور بھارتی جنتا پارٹی کے تئیں لوگوں نے ایسی حمایت دی کہ سارے ملک کے لوگ چونک گئے۔
ہفتہ کو جب اڑیسہ اسمبلی شروع ہوئی تب کانگریس کے ممبران اسمبلی نے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔کانگریس کے ممبر اسمبلی تارا پرساد بہنیپت چیئرمین کے قریب ایک کرسی پر کھڑے ہو گئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔بہنیپت اسپیکر کا مائیک چھیننے لگے۔کانگریس کے ممبر اسمبلی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے لئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسمبلی میں اتنا ہنگامہ ہونے لگا کہ اسپیکر کو 11.30بجے تک ہاؤس کو ملتوی کرنا پڑا۔11.30بجے ہاؤس جب دوبارہ شروع ہوا تو پھر ہنگامہ ہونے لگا اور اسپیکر کو پورے دن کے لئے ایوان کو ملتوی کرنا پڑا،صرف کانگریس ہی نہیں بی جے ڈی کے ممبران اسمبلی نے بھی وزیر اعظم کے بیان سے ناراض ہو کر اسمبلی کے کیمپس میں دہاڑنا شروع کر دیا اور وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم کے تبصرے کو لے کر مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کو بیان دینا پڑا۔دھرمیندر پردھان نے ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے کچھ غلط نہیں کہا ہے۔پردھان نے کہاکہ بی جے ڈی اور کانگریس کو اڑیسہ کے عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔پردھان نے کہا کہ اڑیسہ ہو یا مرکز، طویل المیعاد حکومت کرنے کے باوجود بھی کانگریس اڑیسہ میں غربت نہیں مٹا پائی۔پردھان نے کہاکہ اس بار اڑیسہ کے پنچایت انتخابات میں غربت ہی مسئلہ تھا اور لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔انہونے رگھو رام راجن کی رپورٹ کی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2013میں آئی اس رپورٹ میں اڑیسہ کو کم ترقی یافتہ ریاست بتایا گیا تھا اور اس وقت مرکز میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی۔پردھان نے نگڑا اور دانا ماتجھی کے سیاق و سباق کو اٹھایا۔